امام کی نماز فاسد ہو نےسے مقتدی کی نماز کا حکم:

سوال:
   ایک آدمی جماعت كرا رہا ہے اور درمیان میں نماز کو فاسد کردے، تو مقتدی اپنی نماز پوری کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
   واضح رہے کہ مقتدی کی نماز امام کی نماز كے تابع ہوتی ہے، امام کی نماز فاسد ہونے سے مقتدی کی نماز بھی فاسد ہوجاتی ہے، لہٰذا مذکورہ صورت میں امام کی نماز فاسد ہونے کے بعد مقتدی کا اسی نماز کو پورا کرکے سلام پھیرنا درست نہیں، بلکہ ازسرِ نو پڑھنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي كتاب الصلاة، باب الإمامة1/ 591:
   (وإذا ظهر حدث إمامه) وكذا كل مفسد في رأي مقتد (بطلت فيلزم إعادتها) لتضمنها صلاة المؤتم صحة وفسادا.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب الإمامة1/ 388:
   (قوله: وإن ظهر أن إمامه محدث، أعاد) أي على سبيل الفرض، فالمراد بالإعادة الإتيان بالفرض لا الإعادة في اصطلاح الأصوليين الجابرة للنقص في المؤدى، فلو قال: بطلت لكان أولى، وإنما بطلت صلاة المأموم؛ لأن الاقتداء بناء والبناء على المعدوم محال.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:734
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-23