مسجد کے چندے سے جنازہ کی چارپائی وغیرہ خریدنا:
سوال:
مسجد کے چندے سے میت کو قبرستان لے جانے کے لیے چارپائی خریدنا، میت کے غسل کے لیے تختہ اور قبر کھودنے کے لیے کھدال وغیرہ خریدنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
میت کے جنازہ کے لیے چارپائی وغیرہ ضروریاتِ مسجد میں داخل نہیں، اس لیے مسجد کے وقف شدہ پیسوں سے ان کا خریدنا جائز نہیں، اہل محلہ کو چاہیے کہ اس کے لیے الگ فنڈ کا اتنظام کریں۔
حوالہ جات:
1. فتاوى قاضي خان لحسن بن منصور الأوزجندي، كتاب الوقف 3/ 167:
ذكر الواقف في كتاب الوقف أن القيم يشتري جنازة لا يجوز للقيم أن يشتري جنازة من غلة الوقف، ولو اشترى، ونقد الثمن من غلة الوقف يكون ضامنا؛ لأن مستغل المسجد يكون وقفا على مصالح المسجد، وشراء الجنازة ليس من مصالح المسجد.
3. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الوقف، مطلب في وقف المنقول قصدا 4/ 366:
شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:721
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-22