مقروض کا قرضہ صدقۂ فطر میں معاف کرنا:
سوال:
زید کا بکر کے ذمہ قرض ہے، اور بکر مفلس ونادار ہے، اگر زید صدقۂ فطر کی رقم کو اس قرض میں حساب کرکے لے لے، تو کیا اس طریقے سے صدقۂ فطر ادا ہو جائے گا؟
جواب:
صدقۂ فطر صدقات واجبہ میں سے ہے،جس کی ادائیگی کے لیے یہ ضروری ہے کہ کسی مستحق زکوۃ کو اس کا مالک بنایا جائے، لہذا ذکر کردہ طریقے سے صدقۂ فطر ادا نہیں ہوگا، البتہ مقروض کو باقاعدہ مالک بنا کر صدقۂ فطر دیا جائے اور پھراسے اپنے قرضہ میں وصول کیا جائے، تو یہ طریقہ درست ہے۔
حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الزكاة، باب صدقة الفطر 2/ 368:
(وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال.
2. أيضا، كتاب الزكاة، باب السائمة 1/ 128:
وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض لا يجوز وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه، ولو امتنع المديون مد يده وأخذها لكونه ظفر بجنس حقه.
قال ابن عابدين تحت قوله: (وحيلة الجواز) أي: فيما إذا كان له دين على معسر، وأراد أن يجعله زكاة عن عين عنده…(أن يعطي مديونه إلخ) قال في الأشباه: وهو أفضل من غيره؛ لأنه يصير وسيلة إلى براءة ذمة المديون.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:700
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-20