کرایہ پر دیے ہوئے مکان کی مالیت پر زکوٰۃ کا حکم:

سوال:
   ایک شخص نے اپنا مكان کرایہ پر دیا ہے، جبکہ مکان کی قیمت نصاب کی قیمت سے کئی گنا زیادہ ہے، اس مکان كي قيمت پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ آئے گی یا نہیں؟
جواب:
   كرايه كے مکان کی قیمت پر زکوٰۃ نہیں آتی، البتہ کرایہ کی رقم تنہا یا دیگر قابل زکوٰۃ اموال کے ساتھ مل کرنصاب تک پہنچ جائےاور اس پر سال بھی گذر جائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی۔

حوالہ جات:
1. البحرالرائق لابن نجيم، كتاب الزكاة 2/ 364:
   ولو آجر عبده أو داره بنصاب إن لم يكونا للتجارة لا تجب ما لم يحل الحول بعد القبض.
2. الدرالمختار مع الرد المحتار للحصكفي، كتاب الزكاة 2/ 263:
   (فلا زکاة على مكاتب) … (ولا في ثياب البدن) … (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب.
وقال ابن عابدين تحت قوله: ونحوها : أي: كثياب البدن الغير المحتاج إليها وكالحوانيت والعقارات.
3. الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة،الباب الأول في تفسيرها 1/ 172:
   فلیس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنزل… وسلاح الاستعمال زكاة … إذا لم يكن للتجارة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:703
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-20