دوکاروباری شریکوں کے درمیان منافع کس حساب سے تقسیم ہوگا؟:

سوال:
   ہم دو دوستوں نے مشترکہ طور پر ائی، ایس، ایم مارٹ گروپ ( ISMMART  GROUP ) کو دو لاکھ پچاس ہزار روپے مضاربت کے لیے دی ہیں، جس میں ایک لاکھ پچیس ہزار ایک کا ہے اور ایک لاکھ پچیس ہزار دوسرے کا ہے، وہاں سے ہمیں مجموعی نفع کے تناسب سے فیصدی میں نفع ملتا ہے، مثال کے طور پر کسی مہینے میں ہمیں ستره پرسينٹ ( ٪17) كے حساب سے بیالیس  ہزار پانچسو (42500) روپے ملے، اب ان پیسوں کو ہم دو دوست آپس میں کیسے تقسیم کرسکتے ہیں؟ بینوا تؤجروا.
جواب:
   اگر مذکورہ کاروبار شرعی اصولوں کے مطابق ہو اور اہل فتوی کی طرف باقاعدہ اس کے درست ہونے کا فتوی صادر ہوا ہو تو اس سے حاصل شدہ منافع آپس میں طے شدہ اگریمنٹ کے مطابق تقیسم کیا جائےگا، اگر ایگریمنٹ نہ کیا ہو تو ان کو چاہیے کہ فوری طور پر آپس میں ایگریمنٹ کرلیں کہ ہمارا آپس میں منافع کس حساب سے تقسیم کیا جائے گا۔

حوالہ جات:
1. الهداية للمرغيناني، كتاب المضاربة 3/ 263:
   ومن شرطھا أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة من الربح … لفساده، فلعله لا يربح إلا هذا القدر.
2. فتح القدير لابن الهمام، كتاب المضاربة 7/ 421:
   ویشترط أيضا في المضاربة أن يكون نصيب كل منهما من الربح معلوما عند العقد؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد .
3. بدائع الصنائع للكاساني، کتاب لمضاربة 6/ 59:
    ومنها أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد … ومنها أن يكون الربح جزء مشاعا في الجملة لامعينا، فإن عينا عشرة أو مائة كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضى تحقق الشركة في الربح، والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما … الخ.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:660
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16