@123موبائل فون کے ذریعے خرید و فروخت کرنا

سوال:
آج کل شہری لوگوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ دکاندار کو فون پر کہہ دیا کہ فلاں فلاں اشیاء اتنی مقدار میں تول کر ہمارے گھر بھیج دے یہ طریقہ شرعا کیسا ہے؟
جواب:
جس طرح خط وکتابت کے ذریعے خرید وفروخت جائز ہے، اسی طرح موبائل کے ذریعے بھی خرید وفروخت جائز ہے، لہذا مذکورہ صورت میں اگر مبیع بائع کی ملکیت میں موجود ہو، اور متعاقدین کے مابین باہمی رضامندی سے معاملہ طے ہوجائے اور بیچی جانے والی اشیاء اور ان کی قیمت کو متعین کردیا جائے اور معاملہ میں ایسا ابہام باقی نہ رہے کہ جس سے نزاع پیدا ہوسکے،  تو یہ بیع درست ہے، البتہ جب مبیع مشتری کو مل جائے اور دیکھنے کے بعد اس میں مطلوبہ شرائط موجود نہ ہوں، تو اسے واپس کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في الهداية للمرغيناني، كتاب البيوع، كيفية انعقاد البيع 3/ 23:
وإذا حصل الإيجاب والقبول، لزم البيع، ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية.
وفي رد المحتار لابن عابدين، كتاب البيوع 4/ 512:
ويكون بالكتابة من الجانبين فإذا كتب اشتريت عبدك فلانا بكذا، فكتب إليه البائع قد بعت فهذا بيع كما في التتارخانية، (قوله: فيعتبر مجلس بلوغها) أي: بلوغ الرسالة أو الكتابة، قال: في الهداية، والكتابة كالخطاب، وكذا الإرسال، حتى اعتبر مجلس بلوغ الكتابة وأداء الرسالة، وفي غاية البيان، وقال شمس الأئمة السرخسي: في كتاب النكاح من مبسوطه، كما ينعقد النكاح بالكتابة، ينعقد البيع وسائر التصرف بالكتابة أيضا.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء،كتاب البیوع ، الباب الاول فی تعریف البیع إلخ 3/ 4 :
أما تعريفه، فمبادلة المال بالمال بالتراضي، كذا في الكافي، وأما ركنه، فنوعان: أحدهما، الإيجاب والقبول، والثاني، التعاطي، وهو الأخذ والإعطاء، كذا في محيط السرخسي.
وفي فتح القدير لابن الهمام، کتاب البیوع 6/ 249،248:
قال: (البيع ينعقد بالإيجاب والقبول إذا كانا بلفظي الماضي) مثل: أن يقول أحدهما بعت، والآخر: اشتريت.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:644
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-14