@123بیوی کے مطالبہ پر طلاق دینے سے کون سی طلاق واقع ہوگی؟

سوال:
میاں بیوی کا آپس میں جھگڑا تھا، بیوی بار بار مطالبہ کررہی تھی کہ مجھے طلاق دے دے، شوہر غصہ میں آکر بیوی سے کہتا ہے کہ دے دی، تو اس صورت میں کتنی طلاقیں اور کون سی طلاق واقع ہوئی ہے؟
جواب:
مذکورہ صورت میں بیوی کی طرف سے طلاق کے مطالبہ پر شوہر کا یہ کہنا ”دے دی“ ان الفاظ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوتی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ اگر شوہر چاہے، تو رجوع کرسکتا ہے، چاہے زبان سے کہہ دے، کہ میں نے تجھ کو دوبارہ اپنی بیوی بنالیا، یا  زبان سے کچھ کہے بغیر عملی طور پر ہمبستر ہو یا شہوت کے ساتھ بوس و کنار کرلیں، تو اس سے دوبارہ عقد نکاح خود بخود قائم ہو جائے گا۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطلاق، فصل في الطلاق قبل الدخول 3/ 315:
ولو قالت: طلقني طلقني طلقني، فقال: طلقت فواحدة، إن لم ينو الثلاث، ولو قالت: بحرف العطف طلقت ثلاثا.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب الطلاق، باب طلاق غير المدخول بها 3/ 294:
ولو قالت: طلقني طلقني طلقني، فقال: طلقت فواحدة إن لم ينو الثلاث، ولو عطفت بالواو فثلاث.
وفی البناية لبدر الدين العينى، كتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق 5/ 409:
ولو قالت: طلقني طلقني طلقني،  بغير واو فطلق الزوج، فإن نوى واحدة فواحدة، وإن نوى ثلاثا فثلاثا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:613
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12