@123بالغہ لڑکی کا نکاح ا س کی رضامندی کے بغیر کسی سےکرنا کیسا ہے؟

سوال:
زید نے اپنی نابالغ  بیٹی کی منگنی خالد کے ساتھ کی تھی، جس میں نکاح کا مجلس باقاعدہ منعقد نہیں ہوا تھا، اب بیٹی بالغ ہوگئی ہے، اور خالد کے ساتھ رشتہ پر راضی نہیں ہے، اب اس کا حل کیا ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ منگنی کی شرعی حیثیت وعدۂ نکاح کی ہے، حقیقی نکاح نہیں، لہٰذا مذکورہ صورت میں زید کی بیٹی اگر اس رشتہ پر راضی نہ ہو، تواس  کا نکاح خالد سے نہیں کرانا چاہیے، بلکہ کسی اور مناسب مرد سے  کرلینا چاہیے،  چنانچہ اگر اس کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح خالد سے کیا گیا، اور حسب سابق لڑکی اس پر رضامند نہ ہو، تو یہ نکاح شرعا معتبر نہیں ہوگا ۔

حوالہ جات:
لما في تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء 2 / 118:
ولا تجبر بكر بالغة على النكاح) يريد به أنه لا يزوجها بغير رضاها، فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها عندنا.
وفي البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء في النكاح 3/ 118:
(قوله ولا تجبر بكر بالغة على النكاح) أي: لا ينفذ عقد الولي عليها بغير رضاها عندنا.
وفي  النهر الفائق لسراج الدين عمر بن إبراهيم لابن نجيم، كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء 2/ 202:
(ولا تجبر بكر بالغة على النكاح) لأنها حرة مخاطبة فلا يكون لغيرها عليها ولاية، وإنما ملك الأب قبض الصداق برضاها دلالة.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، باب الولي 3/ 58:
(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ، (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:611
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12