@123 کیا عورت ڈرائیونگ کر سکتی ہے؟
سوال:
عورت اپنے بال بچوں کو اسکول پہنچانے کے لیے ڈرائیونگ کر سکتی ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ قران و حدیث میں خواتین کو اپنے گھروں میں ٹھہرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے خواتین کو اپنے گھروں سے نہیں نکلنا چاہیے، خاص طور سے خواتین کا خود گاڑی چلانا اور بھی زیادہ فتنہ کا باعث ہے، اس لیے خواتین کو حتی الامکان خود ڈرائیونگ نہیں کرنی چاہیے تاہم اگر مجبوری ہو اور کوئی مرد موجود نہ ہو، تو چند شرائط کا خیال رکھتے ہوئے خواتین ڈرائیونگ کر سکتی ہیں: (1) با پردہ ہو کر گھر سے نکلیں (2) حتی الامکان اکیلی نہ جائیں (3) بن سنور ہو کر اور خوشبوں لگا کر نہ نکلیں (4) اپنے خاوند یا سرپرست کی اجازت سے نکلیں۔
حوالہ جات:
لما في قوله تعالى، سورة نمبر 33، آية نمبر 33:
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الكراهية، فصل في اللبس 8/ 215:
ولا تركب امرأة مسلمة على السرج لقوله – عليه الصلاة والسلام – «لعن الله السروج على الفروج» هذا إذا ركبت متلهية أو متزينة لتعرض نفسها على الرجال.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب الحظر والإباحة، مطلب: فرع يكره إعطاء سائل المسجد إلا إذا لم يتخط رقاب الناس 6/ 423:
لا تركب مسلمة على سرج للحديث. هذا لو للتلهي، ولو لحاجة غزو أو حج أو مقصد ديني أو دنيوي لا بد لها منه فلا بأس به.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:600
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12