@123امانت ضائع ہو نے کی صورت میں تاوان کا حکم

سوال:
مفتی صاحب سوال یہ ہے کہ ہم دو ساتھی ہیں ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ کوئی مشترکہ کاروبار شروع کریں، بعد میں ہم دونوں نے ایک خرگوش خرید لیا اس طور پر کہ ایک ساتھی نے تمام رقم ادا کیا، جبکہ دوسرے ساتھی نے کہا کہ میں اس کو پالوں گا، جو منافع ہوگا، اس میں آپ کے حصے کی رقم آپ کو دے دوں گا، اتفاق سے وہ دوسرا ساتھی خرگوش گھر لے جارہا تھا کہ راستہ میں خرگوش مرگیا، اب اس بات کی وضاحت مطلوب ہے کہ  تاوان ہم دونوں پر کس طرح آئے گا، جبکہ ابتداء میں ہم نے یہ کہا تھا کہ نفع و نقصان میں ہم شریک ہونگے؟
جواب:
ذکرہ کردہ صورت میں اگر  یہ خرگوش اس شخص کی تعدی کے بغیر مرا ہو تو نقصان دونوں پر ہر ایک کے سرمایہ کے تناسب سے آئے گا اور اگر اس کی لا پرواہی کی وجہ سے مرا ہو تو لیجانے والے پر تاوان آئے گا۔

حوالہ جات:
لما في  الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الشركة، الفصل الثاني في شرط الربح والوضيعة وهلاك المال 2/ 320:
والوضيعة أبدا على قدر رءوس أموالهما، كذا في السراج الوهاج. وإن عمل أحدهما ولم يعمل الآخر بعذر أو بغير عذر صار كعملهما معا، كذا في المضمرات.
وفي التاتارخانية لعالم بن علاء الهندي، كتاب الشركة، الفصل شركة العنان 7/ 491:
وإن شرطا أن يكون الربح  والوضيعة بينهما نصفين فشرط الوضيعة بصفقة فاسد، ولكن بهذا لاتبطل الشركة؛ لأن الشركة لاتبطل بالشروط الفاسدة، وإن وضعا فالوضيعة على قدر رأس مالهما.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:574
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-10