@123عدالت کی ڈگری کے ذریعے خلع لینا
سوال:
ایک شخص (زید) کا نکاح عورت (زینب) کے ساتھ ہوا ہے لیکن رخصتی نہیں ہوئی، اب رخصتی سے پہلے عورت کی والد کہتا ہے کہ میں عدالت کی ذریعہ سے ان دونوں کے درمیان خلع کرنا چاہتا ہو، حالانکہ خلع میں شوہر کے رضامندی نہیں ہیں، کیا شرعا یہ جائز ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ شریعت میں خلع دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر معاملات معتبر ہونے کے لیے عاقدین کی رضامندی ضروری ہے، اس طرح خلع کی معتبر ہونے کے لیے میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہے، شوہر کے رضامندی کی بغیر عورت یا اس کی والدین عدالت کے ذریعہ یک طرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرے تو شرعا ایسا خلع معتبر نہیں ہوگا، اور میں بیوی کے درمیان نکاح بدستور قائم رہے گا، اس کی مناسب صورت یہ ہے کہ جرگہ کے ذریعے شوہر کو مالی معاوضہ یا مہر کی معاف کی لالچ دے کر کسی طریقہ سے خلع پر رضامند کیا جائے۔
حوالہ جات:
لما في بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق 3/ 144:
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب الطلاق، باب الخلع 3/ 441:
باب الخلع (هو) لغة الإزالة، واستعمل في إزالة الزوجية بالضم، وفي غيره بالفتح، وشرعا كما في البحر (إزالة ملك النكاح) … وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:537
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-06