@123 کیا دوسرے نکاح کے لیے عورت کا اتنا کہنا کافی ہے کہ مجھے طلاق ہوچکی ہے؟

سوال:
کسی عورت کے شوہر کا پتہ نہ ہو، اور یہ عورت یہ ظاہر کرتی ہو کہ میرا شوہر مجھے طلاق دے چکا ہے، اس عورت سے کسی مرد کا درست ہے یا نہیں؟
جواب:
مذکورہ صورت میں اس عورت سے دوسرے مرد کا نکاح درست ہے جبکہ یہ عورت عدت گزار چکی ہو، اور اس مرد کا عورت کے بارے میں غالب گمان ہو کہ یہ عورت سچ کہہ رہی ہے، تاہم اگر بعد میں پتہ چلا کہ اس عورت کا پہلے سے نکاح موجود ہے، تو یہ دوسرا نکاح کالعدم شمار ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في المبسوط السرخسي، كتاب الطلاق، باب الإحصان 5/ 151:
(قال:) وإذا قالت: طلقني زوجي، أو مات عنى، وانقضت عدتي حل لخاطبها أن يتزوجها ويصدقها؛ لأن الحل والحرمة من حق الشرع، وكل مسلم أمين مقبول القول فيما هو من حق الشرع، إنما لا يقبل قوله في حق الغير إذا أكذبه من له الحق، ولا حق لأحد هنا فيما أخبرت به، فلهذا جاز قبول خبرها في ذلك.
وفي الهداية لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب البيوع  3/ 376:
وكذا لو قالت لرجل طلقني زوجي، وانقضت عدتي فلا بأس أن يتزوجها.
وفي تبيين الحقائق لعثمان بن علي الزيلعي، كتاب البيوع  6/ 26:
وكذا لو قالت لرجل طلقني زوجي، وانقضت عدتي فلا بأس أن يتزوجها … لأن القاطع طار على ما بينا.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطلاق، 4/ 164:
فرع في الخلاصة، قال: جاءت امرأة إلى رجل وقالت: طلقني زوجي، وانقضت عدتي ووقع في قلبه أنها صادقة، وهي عدلة أولا، حل له أن يتزوجها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:541
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-06