سترہ نمازی کی کس جانب ہونا چاہیے؟:

سوال:
   سترہ کی شرعی مقدار کتنی ہے؟ اور کس طرف گاڑنا چاہیے؟
جواب:
   سترہ کی کی لمبائی کم از کم ایک شرعی گز کے برابر ہونی چاہیے، اور شرعی گز کی لمبائی دو بالشت کے برابر ہوتی ہے، جو تقریبا(18) انچ بنتا ہے، اور موٹائی میں کم از کم ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے بقدر ہونی چاہیے، سترہ چاہے سامنے ہو، یا دائیں بائیں، تینوں صورتیں جائز ہیں، البتہ  دائیں جانب رکھنا بہتر ہے۔

حوالہ جات:
1. صحيح مسلم، كتاب الصلاة،  باب قدر سترة المصلي، الرقم: 1046:
   عن موسى بن طلحة ، عن أبيه ، قال :قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا وضع أحدكم بين يديه مثل مؤخرة الرحل فليصل، ولا يبال من مر وراء ذلك.
2. در المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها 1/ 636: 637:
   (ويغرز) ندبا بدائع (الإمام) وكذا المنفرد (في الصحراء) ونحوها (سترة بقدر ذراع) طولا (وغلظ أصبع) لتبدو للناظر (بقربه) دون ثلاثة أذرع (على) حذاء (أحد حاجبيه) ما بين عينيه والأيمن أفضل (ولا يكفي الوضع، ولا الخط) وقيل: يكفي فيخط طولا، وقيل: كالمحراب (ويدفعه) هو رخصة، فتركه أفضل بدائع.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:533
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-04