خلع لینے کی صورت میں عدت کے نفقہ کا حکم:

سوال:
   زید نے اپنی بیوی کو خلع کے ذریعے سے فارغ کردیا ہے، اب عدت کے دوران بیوی کا نفقہ زید کی ذمہ ہے یا نہیں؟
جواب:
   خلع کرتے وقت اگر شوہر کی طرف سے نفقہ سے بری ہونے کی شرط لگائی گئی ہو، تو شوہر پر عدت کے دوران نفقہ لازم نہیں، اور اگر نفقہ سے بری ہونے کی شرط نہ لگائی گئی ہو، تو عدت کا نفقہ شوہر کے ذمہ واجب ہے۔

حوالہ جات:
1. درر الحكام شرح غرر الأحكام لملا خسرو، كتاب الطلاق، باب الخلع 1/ 392:
   (ويسقط الخلع والمبارأة) … (كل حق لكل منهما على الآخر مما يتعلق بالنكاح)… وأما نفقة العدة فلا تسقط إلا بالذكر، قيد بالنكاح؛ لأنه لا يسقط ما لا يتعلق به كالقرض، وثمن ما اشترت من الزوج، ونحوهما.
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطلاق، باب الخلع  452/3:
   (ويسقط الخلع) في نكاح صحيح، ولو بلفظ بيع وشراء كما اعتمده العمادي، وغيره (والمبارأة) أي الإبراء من الجانبين (كل حق) … (لكل منهما عن الآخر مما يتعلق بذلك النكاح) … (إلا نفقة العدة) وسكناها فلا يسقطان (إلا إذا نص عليها) فتسقط النفقة لا السكنى.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:522
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-03