@123لے پالک بیٹی سے پردہ کرنے کاحکم

سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری اپنی اولاد نہیں، ایک رشتہ دار نے اپنی بیٹی مجھے دی، اس وقت اس کی  عمر تین سال تھی، میں نے بہت پیار ومحبت سے اس کو پالا ،کبھی اپنی بیٹی سے کم نہیں سمجھا اور وہ بھی مجھے اپنے باپ کی طرح پکارتی ہے، اب وہ جوان ہوئی ہے، تو لوگ کہتے ہے کہ یہ آپ کی بیٹی نہیں ہے؟ آپ کا اس سے پردہ لازم ہے، جب کہ میں نے اس کو اپنی بیٹی سے کم نہیں سمجھا، اب شرعا میرے لیے کیا حکم  ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں لے پالک اور منہ بولے بیٹے، بیٹی کی حقیقی اولاد کی طرح حیثیت نہیں ہے اور کسی کو منہ بولا بیٹا بیٹی سے وہ حقیقی  بیٹا ، بیٹی نہیں بن جاتے ہیں اور نہ ہی ان پر حقیقی اولاد کے احکام جاری ہوتے ہیں، لہذا لے پالک بیٹی سے بالغ ہونے کے بعد پردہ کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
لما في أحكام القرآن للجصاص الحنفي، فصل: في إباء أحد الزوجين اللعان 3/ 472:
قوله تعالى: {فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها لكي لا يكون على المؤمنين حرج في أزواج أدعيائهم} الآية. قد حوت هذه الآية أحكاما: والثاني: أن البنوة من جهة التبني لا تمنع جواز النكاح.
وفي  التيسير في أحاديث التفسير لمحمد المكي الناصري، سورة الاحزاب 5/ 136:
{وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ}، إذ بمقتضى هذه الآية أصبح الابن الذي ليس بابن الصلب وهو الذي وصفه كتاب الله بوصف (الدعي) والجمع (أدعياء) شخصا أجنبيا عن متبنيه السابق، وأصبح هذا المتبني – الذي كان يدعى (أبا).
وفي عمد الرعاية لمحمد عبد الحي اللكنوي، كتاب النكاح 4/ 32:
قوله: وفرعه؛ أي الابن الصلبي وإن سفل دون المتبنى، فإن زوجته حلال بنص القرآن، وأما بنت زوجة أبيه، أو ابنه فحلال، وكذا بنت ابنها، وكذا بنت زوج الأم وأمه، وأم زوجة الأب، وأم زوجة الابن، وزوجة الربيب، وزوجة الراب، كذا في ((البحر))، وغيره.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:493
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-02