”میں نے آزاد کردیا“ کہنے سے طلاق کا حکم:

سوال:
  ایک شخص کو سسر نے کہا کہ میرے گھر سے نکل جاؤ، اور میری بیٹی کو بھی چھوڑ دو، اس نے غصے سے کہہ دیا کہ تمہارے کہنے پر میں نے آزاد کردیا، میں نے آزاد کردیا، میں نے آزاد کردیا، لیکن اس کا ارادہ آزاد کر دینے کا نہیں تھا، تو اس صورت میں اس كى بیوی کو طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
جواب:
   واضح رہے کہ لفظ ’’آزاد کردیا‘‘ بذات خود اگرچہ لفظ کنایہ ہے، جس سے طلاق کا وقوع نیت پر مبنی ہے، تاہم عرف میں یہ لفظ طلاق ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے فقہاء کرام نے اس کو طلاق صریحی میں شمار کرکے بغیر نیت کے بھی اس سے طلاق واقع ہونے کو کہا ہے، لہذا مذکورہ صورت میں جب اس نے تین مرتبہ یہ الفاظ استعمال کیے، تو ان سے تین طلاقیں واقع ہوگئیں، اور یہ عورت شوہر پر حرام ہوگئی، اب نہ رجوع کرسکتا ہے، اور نہ تجدید نکاح سے یہ عورت واپس نکاح میں آسکتی ہے، تاہم اگر یہ عورت عدت طلاق گزار کر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے، اور وہ شخص اس سے جماع کرکے کسی وجہ سے طلاق دیدے تو عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي،كتاب الطلاق، باب الكنايات  3/ 299:
   فإن سرحتك كناية، لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح، فإذا قال ” رهاكردم ” أي: سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا.
2. فتاوى التاتارخانية لعالم بن علاء الهندي، كتاب الطلاق، فصل في الكنايات 4/ 465:
   ولو قال: رها كردمت مضافا إلى المرأة، فهو صريح يوجب الرجعة، ولا يصدق أنه لم ينو به الطلاق، خصوصا عند مذاكرة الطلاق.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:513
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-02