پیداوار میں عشر اور نصف عشر واجب ہونے کے اصول:
سوال:
کونسی زمین میں عشر ہے، اور کون سی میں نصف عشر واجب ہے؟
جواب:
جو زمین جو عشری ہو اور بارش کے پانی سے سراب ہوتی ہو اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے اور وہ زمین جو عشری ہو اور نہر یا ٹیوب ویل یا رہٹ کے پانی سے سیراب ہو تی ہو اور اس نہر کا باقاعدہ آبیانہ مقرر ہو تو اس میں نصف عشر یعنی پیداوار کا بیسواں حصہ واجب ہوگا۔
حوالہ جات:
1. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب الزكاة، باب العشر 2/ 416:
ما سقته السماء ففيه العشر، وما سقي بغرب أو دالية ففيه نصف العشر (ونصفه في مسقي غرب و دالية) أي: يجب نصف العشر فيما سقى بآلة للحديث … وإن سقى بعض السنة بآلة والبعض بغيرها فالمعتبر أكثرها، كما مر في السائمة والعلوفة، وإن استويا يجب نصف العشر.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الزكاة، باب الزرع و الثمار 1/ 205:
وما سقى بالدولاب والدالية ففيه نصف العشر، وإن سقى سيحا وبدالية يعتبر أكثر السنة فإن استويا يجب نصف العشر، كذا في خزانة المفتين.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:445
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-29