ناراض مقتدیوں کی امامت کا حکم:

سوال:
   ایک آدمی مسجد کا امام ہے، مگر لوگ اس کو پسند نہیں کرتے ہیں، اور اس کو نکالنا چاہتے ہیں، مگر وہ زبردستی سے امامت کرتا ہے، تو ایسی صورت میں ان کی امامت کرنا کیسا ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ اگر مقتدیوں کا امام سے ناراضگی کسی دینی وجہ سے ہو، مثلاً: امام فاسق فاجر ہو، یا اس کا عقیدہ درست نہ ہو، یا اس سے زیادہ اہل مقتدیوں میں موجود ہو تو ایسی ناراضگی معتبر ہے، اور ایسے امام کی امامت مکروہ تحریمی ہے، اور اگر ناراضگی ذاتی دشمنی وعناد کی وجہ سے ہو، تو ایسی ناراضگی معتبر نہیں، اور اس امام کی امامت بالکل درست ہے۔ بلکہ ایسی صورت میں ان بے جا تنگ کرنے والے مقتدیوں کی نماز اس امام کے پیچھے مکروہ ہوگی۔ 

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب الإمامة 2/ 354:
   (ولو أم قوما، وهم له كارهون) إن الكراهة (لفساد فيه، أو لأنهم أحق بالإمامة منه، كره) له ذلك تحريما؛ لحديث أبي داود: ”لا يقبل الله صلاة من تقدم قوما، وهم له كارهون“ (وإن هو أحق، لا) والكراهة عليهم.
2. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم،  كتاب الصلاة، باب الإمامة1/ 609:
   وفي الخلاصة وغيرها: رجل أم قوما وهم له كارهون، إن الكراهية لفساد فيه، أو لأنهم أحق با لإمامة، يكره له ذلك، وإن كان هو أحق با لإمامة، لا يكره له ذلك.
3. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الصلاة، الفصل السادس أحكام الإمامة والإقتداء 2/ 180:
ومن أم قوما، وهم له كارهون، إن كانت الكراهة لفساد فيه،كره له ذلك، وإن كان هو أحق بالإمامة لم يكره: لأن الفاسق والجاهل يكره العالم والصالح.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:474
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-29