@123مرضِ موت میں اپنی زمین مدرسہ کےلیے وقف کرنا
سوال:
اگر کسی نے سخت مرض کی حالت میں اپنی زمین مدرسہ کے لیے وقف کردی تو یہ وقف صحیح ہوا یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ اگر اس شخص کی موت اسی مرض میں واقع ہوئی ہو اور مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین اس کے مال کے ایک تہائی کے برابر یا اس سے کم ہو تو اس وصیت پرعمل کرنا ضروری ہے، اور اگر یہ زمین تہائی مال سے زیادہ ہو تو صرف تہائی مال میں اس کو نافذ کیا جائے گا، البتہ اگر سب ورثہ بالغ ہوں اور وہ اجازت دے دیں، تو پھر پوری زمین مدرسہ کے لیے وقف ہوجائے گی، اور اگر مذکورہ شخص اس مرض سے صحت یاب ہوا ہو، تو وقف شدہ ساری زمین مدرسہ کے لیے وقف ہوجائے گی، اس میں ورثاء کا حق نہیں رہے گا۔
حوالہ جات:
لما في فتح القدير ابن الهمام، كتاب الوقف 6/ 208:
قوله: (ولو وقف في مرض الموت قال الطحاوي: هو كالوصية بعد الموت) حتى يلزم بعد الموت؛ لأن تصرفات المريض مرض الموت في الحكم كالمضاف إلى ما بعد الموت حتى يعتبر من ثلث ماله. والصحيح أنه لا يلزم عند أبي حنيفة إلا أن يحكم به فله بيعه ويورث عنه إذا مات قبل الحكم إلا أن تجيز الورثة. وعندهما: يلزم إلا أنه من الثلث ؛ لتعلق حق الورثة بخلافه في الصحة.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب الوقف 1/ 375:
(الوقف في مرض موته، كهبة فيه) من الثلث مع القبض، (فإن خرج) الوقف (من الثلث، أو أجازه الوارث، نفذ في الكل، وإلا بطل في الزائد على الثلث).
وفي درر الحكام لملا خسرو، كتاب الوقف، الوقف في مرض الموت 2/ 138:
(الوقف في مرض الموت، كالهبة فيه) فيعتبر من الثلث، ويشترط فيه ما يشترط فيها من القبض والإفراز، (فإن خرج من الثلث، أو أجازه الوارث، نفذ) في الكل، (وإلا بطل في الزائد على الثلث).
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:418
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26