: شیر خوار بچےکی قے کا حکم
سوال:
کیا شیر خوار بچےکا قے بدن یا کپڑے پر لگ جائے، تواس کے ساتھ نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب:
قے چاہے بالغ کی ہو یا شیر خوار بچے کی، اگر منہ بھر کر ہو تو ناپاک ہے، لہذا ایک درہم يا ہاتھ کی ہتھیلی کے گہراؤ کے برابر یا اس سے زیادہ مقدار کپڑوں یا بدن پر لگ جائے، تو دھوئے بغیر نما ز نہ ہوگی اور اگر قے منہ بھر کر نہ ہو یا دودھ منہ میں جانے کے بعد نگلے بغیر ہی بچہ واپس پھینک دے، تووہ ناپاک نہیں ہے۔
حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين ، كتاب الطهارة، باب الأنجاس 1/309:
وفي الفتح:صبي ارتضع، ثم قاء، فأصاب ثياب الأم، إن كان ملء الفم، فنجس، فإذا زاد على قدر الدرهم منع.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطهارة، باب نواقض الوضوء 1/36:
قال الحسن: إذا تناول طعاما، أو ماء، ثم قاء من ساعته لا ينقض؛ لأنه طاهر حيث لم يستحل، وإنما اتصل به قليل القيء، فلا يكون حدثا، فلا يكون نجسا، وكذا الصبي إذا ارتضع وقاء من ساعته، وصححه في المعراج وغيره.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:365
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-25