@123مسجد کی زمین پر امام مسجد کے لیے گھر بنانا

سوال:
مسجد کے لیے وقف شدہ زمین میں امامِ مسجد کے لیے گھر بنانا کیسا ہے؟
جواب:
مسجد کا وہ حصہ جو نماز پڑھنے اور عبادات ادا کرنے کے لیے مختص کیا گیا ہو، اس میں امام کے لیے گھر بنانا جائز نہیں ہے، البتہ مسجد کی زمین کا وہ حصہ جو مسجد کے مصالح کے لیے ہو اس پر امام مسجد کے لیے گھر بنانا درست ہے۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي،كتاب الوقف، مطلب في وقف المنقول قصدا4/ 366:
(ويبدأ من غلته بعمارته)، ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد، ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الوقف، فصل في أحكام المساجد 5/ 271:
وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام، فإنه لا يضر في كونه مسجدا؛ لأنه من المصالح.
وفي  لسان الحكام لأحمد بن محمد الحلبي، الفصل العاشر في الوقف، ص 301:
شرط الواقف يجب مراعاته، ولا يتجاوز عما شرطه، وإن لم يشترط ذلك.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:256
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-27