@123حلال وحرام کے مخلوط پیسوں سے مکان خریدنا
سوال:
خالد نے سود کے ملے جلے پیسوں سے مکان خرید لیا اور وہ بقضائے الہی فوت ہوگیا، تو ابھی زید جو اس کا بیٹا ہے یہ دریافت کرنا چاہتا ہے کہ اس مکان کا کیا کرے گا، تاکہ میرے والد کا ذمہ فارغ ہوسکے؟
جواب:
مذکورہ صورت میں زید کے والد نے سود کی جتنی رقم سے گھر خریدا تھا، اتنی رقم کے برابر جائز اور حلال رقم زید غرباء میں بلانیت ثواب صدقہ کردے، اتنی رقم صدقہ کردینے کے بعد مکان کا استعمال کرنا جائز ہوجائے گا، اور زید کے والد کا ذمہ بری ہوجائے گا۔
حوالہ جات:
لمافي تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب البيوع، فصل في البيع 6/ 27:
وعلى هذا قالوا: لو مات رجل، وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذوا منه شيئا، وهو أولى لهم، ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه.
وفي المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي،كتاب الاستحسان والكراهية،الفصل الرابع عشر في الكسب 5/ 214:
والسبيل في المعاصي ردها، ولذلك ههنا يرد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه، وبالتصدق منه إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:226
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-25