@123رمضان میں بیوی کے ساتھ پیچھے سے ہمبستری کرنے کاحکم

سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ رمضان کے مہینے میں جس طرح بیوی کے ساتھ جماع کرنے میں قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوتے ہیں، آیا کوئی رمضان میں بدفعلی کرے تو اس سے بھی دونوں لازم ہوں گے؟
جواب:
رمضان میں جس طرح بیوی کے ساتھ آگے کے طرف سے ہمبستری کرنے سے قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوتے ہیں، اسی طرح رمضان میں بیوی کے ساتھ دبر یعنی پیچھے کی راہ سے ہمبستری کرنے سے بھی قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية للجنة العلماء،كتاب الصوم، النوع الثانی ما یوجب القضاء، والکفارة 1/ 305:
من جامع عمدا في أحد السبيلين، فعليه القضاء، والكفارة، ولا يشترط الإنزال في المحلين، كذا في الهداية.
وفي الفتاوى قاضي خان حسن بن منصورالأوزجندي 1/ 104 :
وإن جامعها في دبرها، أو جامع أمته في دبرها متعمدا عليه القضاء والكفارة أنزل، أو لم ينزل في قول أبي يوسف رحمه الله تعالى، وكذا إذا عمل عمل قوم لوط.
وفي الجوهرة النيرة لأبي بكر الحدادي،كتاب الصوم، مطلب في مفسدات الصوم 1/ 338:
(قوله: (ومن جامع عامدا في أحد السبيلين، أو أكل، أو شرب ما يتغذى به، أو يتداوى به، فعليه القضاء، والكفارة)؛ لأن الجناية متكاملة لقضاء الشهوة، ولا يشترط الإنزال اعتبارا بالاغتسال؛ لأن قضاء الشهوة يتحقق دونه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:220
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-22