@123دکاندار کا بجلی بِل جمع کرانے پر اضافی چارجز وصول کرنا
سوال:
دکاندار حضرات جو بل جمع کرتے ہیں، ان کو ہر بل جمع کرنے پر کمپنی پیسے دیتی ہے، بعض دکاندار صارفین سے علیحدہ بھی کچھ رقم لیتے ہیں، تو کیا اس طرح ان کا اضافی چارجز وصول کرنا درست ہے یا نہیں؟
جواب:
مذکورہ صورت میں دکاندار چونکہ محکمہ کی طرف سے اجیر ہے اور اس کو محکمہ کی طرف سے فی بِل جمع کرانے پر باقاعدہ پیسے ملتے ہیں اور محکمہ کی طرف سے ان پر اضافی چارجز لینے پر پابندی بھی ہوتی ہے، اس وجہ سے بِل جمع کرانے پر صارفین سے اضافی چارجز وصول کرنا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي،كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير 6/ 64:
باب ضمان الأجير (الأجراء على ضربين: مشترك وخاص، فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غير مؤقت) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا وإن لم يعمل لغيره (أو موقتا بلا تخصيص) كأن استأجره ليرعى غنمه شهرا بدرهم كان مشتركا، إلا أن يقول: ولا ترعى غنم غيري وسيتضح.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الحدود، الباب السابع في حد القذف والتعزير، فصل في التعزير 2/ 167:
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي، كذا في البحر الرائق.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الوكالة، فصل في بيان حكم التوكيل 6/ 27:
(وأما) الوكيل بالبيع فالتوكيل بالبيع لا يخلو إما أن يكون مطلقا، وإما أن يكون مقيدا، فإن كان مقيدا يراعى فيه القيد بالإجماع.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:217
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-21