کیا حدود اسلامی نظام کا حصہ ہے؟:
سوال:
ایک مولوی صاحب نے یہ بات کہی ہے کہ حدود اسلامی نظام کا حصہ نہیں ہے، یہ اسلامی نظام کے چلانے کے لیے قائم کی گئی ہے اور مثال بھی دی کہ جیسا کسی سکول میں سزا وغیرہ سکول کے نصاب کا حصہ نہیں ہوتا ہے، اسی طرح یہ حدود بھی ہیں، کیا یہ بات درست ہے یا نہیں؟
جواب:
جس طرح اعتقادات، معاملات اور عبادات اسلام کا حصہ ہے اور ان کو ویسے ہی بجا لانا ضروری ہے جس طرح ان کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح حدود وقصاص بھی باقاعدہ اسلامی نظام کا حصہ ہے، اور ان کو اسی طرح نافذ کرنا یا بجا لانا ضروری ہے جس طرح کہ اسلام نے ان کا حکم دیا ہے، حاکم وقت کی رائے سے ان میں تبدیلی وغیرہ کرنا درست نہیں۔
حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الطهارة 1/ 79:
اعلم أن مدار أمور الدين على الاعتقادات، والآداب، والعبادات، والمعاملات، والعقوبات … والعقوبات خمسة: القصاص، وحد السرقة، والزنا، والقذف، والردة.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطهارة 1/ 19:
اعلم أن مدار أمور الدين متعلق بالاعتقادات، والعبادات، والمعاملات، والمزاجر، والآداب.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:189
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-13