محلہ کی مسجدچھوڑ کر دوسری مسجد ختم قرآ ن کے لیے جانا کیسا ہے؟:

سوال:
  اگر کسی محلے کی مسجد میں تراویح میں ختم قرآن نہ ہوتا ہو، تو دوسری مسجد جہاں پر ختم قرآن ہورہا ہو جانا اور تراویح میں قرآن کریم سننا جائز ہے؟ 
جواب:
   واضح رہے کہ رمضان المبارک میں تراویح میں ایک مرتبہ قرآن مجید ختم کرنا مسنون ہے، چاہے اپنے محلہ کی مسجد میں ہو یا دوسرے محلہ کی مسجد میں، اس لیےمذکورہ صورت  میں جب اپنے محلہ کی مسجد میں ختم قرآن نہ ہوتا ہو، تودوسرے محلہ کی مسجد جا کر تراویح میں قرآن کریم سننا بلا کراہت جائز ہے، بشرطیکہ  دوسری مسجد میں ختم قرآن شریعت کے اصولوں کے مطابق ہورہا ہو ورنہ اپنے محلے کی مسجد میں تراویح چھوٹی سورتوں  کے ساتھ پڑھنا بہتر ہے۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح 1/ 116، 117:
   قال الإمام: إذا كان إمامه لحانا، لا بأس بأن يترك مسجده، ويطوف، وكذلك إذا كان غيره أخف قراءة وأحسن صوتا، وبهذا تبين أنه إذا كان لا يختم في مسجد حيه، له أن يترك مسجد حيه، ويطوف، كذا في المحيط … السنة في التراويح إنما هو الختم مرة.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل 2/ 121:
   وإذا كان إمام مسجد حيه لا يختم، فله أن يترك إلى غيره.
 

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:115
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-4