چہرے پر سرخی پاؤڈر کے ہوتے ہوئے وضو کرنا:
سوال:
اگر خاتون چہرے پر سرخی پاؤڈر لگائے، تو اس کے ہوتے ہوئے وضوجائز ہے یا نہیں؟
جواب:
سرخی پاؤڈر اگر ایسا ہو جس کی تہہ نہ جمتی ہو، اور اس کے نیچے پانی بآسانی پہنچ جاتا ہو، تو اس کے ہوتے ہوئے وضو کرنا درست ہے، لیکن اگر اس کی تہہ جم جاتی ہو، اور نیچے تک پانی بآسانی نہ پہنچتا ہو، تو وضو سے پہلے اس کا اتارنا ضروری ہے، ورنہ وضو درست نہیں ہوگا۔
حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصکفي، كتاب الطهارة 1/ 317:
(و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه)، أو في سنه المجوف، به يفتى، وقيل: إن صلبا منع، وهو الأصح .ؔ
قال ابن عابدين تحت قوله: (إن صلبا) … أي: إن كان ممضوعا مضغا متأكدا، بحيث تداخلت أجزاؤه، وصار له لزوجة وعلاكة، كالعجين، شرح المنية. (قوله: هو الأصح) صرح به في (شرح المنية)، وقال: لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورة والحرج.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، الباب الأول في الوضوء 1/ 5:
والخضاب إذا تجسد، ويبس، يمنع تمام الوضوء والغسل.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:68
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-14