عورت کی چھاتی سے نکلنے والے پانی کا حکم:
سوال:
عورت کی چھاتی سے پانی نکلنے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟
جواب:
عورت کی چھاتی سے نکلنے والے پانی کے ساتھ اگر درد محسوس ہوتا ہو، تو اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اگر درد کا محسوس نہ ہوتا ہو، تووضو نہیں ٹوٹتا؛ کیونکہ پہلی صورت میں یہ زخم سے نکلنے والے پیپ کے حکم میں ہے، جبکہ دوسری میں پیپ کے حکم میں نہیں۔
حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصکفي، کتاب الطھارة، باب نواقض الوضوء 1/ 305:
(كما) لا ينقض (لو خرج من أذنه) ونحوها كعينه وثديه (قيح) ونحوه، كصديد وماء سرة وعين (لا بوجع) وإن خرج (به) أي: بوجع (نقض)؛ لأنه دليل الجرح.
2. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الطهارة 1/ 48:
والقيح الخارج من الأذن أو الصديد إن كان بدون الوجع، لا ينقض، ومع الوجع ينقض؛ لأنه دليل الجرح.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:59
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-13