حالتِ حیض میں اذان کا جواب دینا:

سوال:
عورت  ماہواری کے دنوں میں اذان کا جواب دے سکتی ہے یا نہیں؟
جواب:
حالتِ حیض میں اذان کا جواب دینے میں فقہی لحاظ سے اختلاف پایا جاتا ہے، بعض حضرات نے ناجائز کہا ہے اور وجہ یہ بیان کی ہے کہ چونکہ خواتین حالتِ حیض میں نماز کی عملا مخاطب نہیں، اس لیے اذان کا قولا جواب دینے کے بھی اہل نہیں، لیکن دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ اذان کا جواب دینے کی اجازت ہونی چاہیے؛ کیونکہ بالفعل اجابت سے عاجز ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ کلماتِ اذان کو دہرانا بھی ممنوع ہو، چونکہ حائضہ کے لیے عام ذکر واذکار کی بھی گنجائش ہے اور کلماتِ اذان بھی ایک قسم کا ذکر ہے اس لیے جواز کی رائے زیادہ قرین قیاس ہے۔

حوالہ  جات:
1. الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الأذان 1/81:
   ويجيب... من سمع الأذان ولوجنبا، لاحائضا، ونفساء.
قال ابن عابدین تحت قوله:(لاحائضا، ونفساء) لأنهما ليسا من أهل الإجابة بالفعل فكذا بالقول. إمداد: بخلاف الجنب فإنه مخاطب بالصلاة.
2. الفتاوى السراجية لعثمان بن علي الأوشي 1/50:
   الحائض والجنب… ويجوز لهما الدعوات … وجواب الأذان.
نیز ديكهيے:
كتاب النوازل، از: مفتی سليمان منصورپوری، كتاب الطهارت، حيض ونفاس كے مسائل، عنوان: حالت حيض ميں اذان كا جواب دينا 191/3۔

والله أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:6
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-08-29